خواتین صحافیوں کے نیٹ ورک کی ضرورت، آخر کیوں؟

خیبرپختونخوا اور قبائلی اضلاع کی خواتین صحافیوں نے اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے پہلی دفعہ ایک چھتری تلے جمع ہونے کا فیصلہ کیا ہے اور اس مقصد کے لئے باقاعدہ طور پر ویمن جرنلسٹس نیٹ ورک کا قیام عمل میں لایا ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ روز پشاور میں خواتین صحافیوں کا پہلا تقریب منعقد ہوا جس میں قبائلی اضلاع سے بھی خواتین صحافیوں نے شرکت کی۔
تقریب میں سینیئر صحافی نسرین جبین، ناہید جہانگیر، ثمینہ ناز، خالدہ نیاز، آسما بصیر، صبارانی، قاندی صافی اور قبائلی اضلاع سے بشریٰ محسود اور سٹیزن جرنلسٹ جمائمہ آفریدی سمیت کئی خواتین صحافیوں اور بلاگرز نے شرکت کی۔
خواتین صحافیوں کو اکٹھا کرنے والی صحافیوں ناہید جہانگیر اور خالدہ نیاز نے پلیٹ فارم مہیا کرنے پرٹرائبل نیوز نیٹ ورک کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس نیٹ ورک بنانے کا خیال انکے ذہن میں اس لیے آیا کہ خیبرپختونخوا میں ابھی تک خواتین صحافیوں کا الگ کوئی پلیٹ فارم نہیں ہے جہاں انکے مسائل پہ بات کی جاسکے اور وہ یکجا ہوکر خواتین صحافیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں۔
انہوں نے کہا کہ اس نیٹ ورک کے ذریعے وہ خیبرپختونخوا کی صحافیوں کو اکٹھا کرنا چاہتی ہیں تاکہ مستقبل میں ان کے حقوق کے لیے کام کرسکیں اور ان کے لیے پیشہ ورانہ تربیت کا انعقاد کرسکیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس نیٹ ورک کے ذریعے وہ اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ عام خواتین کے مسائل کو خواتین صحافی اچھے طریقے سے سامنے لائے اور یہ کہ خواتین کی نمائندگی کس طرح میڈیا میں بڑھائی جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ خیبرپختونخوا کی تمام صحافیوں کو اس نیٹ ورک کا حصہ بننے کے لیے تہہ دل سے دعوت دیتی ہیں تاکہ یہ نیٹ ورک مستقبل میں کامیاب ہوکر اپنے مقاصد کو حاصل کرسکیں۔
تقریب میں خواتین صحافیوں نے درپیش مسائل کے حوالے سے بات کی اور کہا کہ اس طرح کا نیٹ ورک بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ خواتین صحافیوں کو کئی ایک مسائل درپیش ہے لیکن ان کی آواز سننے والا کوئی نہیں ہے۔
اس موقع پرسینیئر صحافی نسرین جبین کا کہنا تھا کہ اس نیٹ ورک کو کامیاب بنانے کے لیے خیبرپختونخوا میں کام کرنے والی تمام خواتین صحافیوں کو بلاامتیاز اور ذاتی مفاد سے بلاتر ہوکر کام کرنا ہوگا۔
آسما بصیر کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ وہ بھی کئی سالوں سے پشاور میں کام کررہی ہیں لیکن ان کو ابھی تک کوئی صحافی ماننے کو تیار نہیں جس سے ان کو بہت دکھ ہوتا ہے اور ان کو خوشی ہے کہ وہ اس نیٹ ورک کا حصہ بننے جارہی ہیں۔

صبارانی نے اس موقع پرکہا کہ وہ مانتی ہیں پرائیویٹ جگہوں میں نوکریاں محفوظ نہیں ہوتی تاہم صحافت میں پہلے ہی سے بہت کم خواتین کام کررہی ہیں لیکن جو کام کررہی ہیں ان کی بھی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی اور انکو ذاتی اختلاف پرنوکریوں سے نکال دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نیٹ ورک کے ذریعے ان خواتین کے لیے بھی آواز اٹھائی جائے گی اور یہ ایک اچھا پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔
اس دوران ثمینہ ناز کا کہنا تھا کہ وہ پچھلے دس سال سے میڈیا کے مختلف اداروں کے ساتھ اچھی پوزیشنز پرکام کرچکی ہیں لیکن زیادہ ترجگہوں پرحراسانی کا شکار ہوئی ہیں اور جب خود ہی اس کے خلاف آواز اٹھائی تو کسی نے بھی ان کا ساتھ دینے کی بجائے الٹا ان کو پرابلمیٹک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا نیٹ ورک بہت خوش آئند ہے اور اس کے لیے بھرپور کام کریں گی۔

Written by 

صحافی و براڈکاسٹر خالدہ نیاز نے 2013 میں پشاور یونیورسٹی سے جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر حاصل کی، گزشتہ چھ سال سے وہ صحافت کے شعبے سے وابسطہ ہے وہ مقامی ریڈیو میں پروڈیوسر، ایڈیٹر اور پریزنٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہے ریڈیو کے علاوہ خالدہ انسانی حقوق اور خواتین کے مسائل پر بھی لکھتی ہیں۔ آپ خالدہ نیاز کا بلاگ اب آگاہی وی لاگ پر بھی پڑھ سکیں گے۔