ہومیوپیتھک طریقہ علاج ممتاز کیوں

روح ، روحانیت اور هومیوپیتھی طریقہ علاج ھومیو پیتھی وہ علم با آرٹ ہے جن کے نزریعے مریض کا علاج اندرونی و بیرونی علامات کے مطابق طریقہ بالمثل سے کیا جاتا ہے۔ اگر معالج فلسفہ پر نہیں سمجھا گیا ہو تو بغیر اسکے مریض کو دوا دینا ہلاکت ہو گا۔ اور علاج کا میاب ہونا نہ صرف مشکل ترین ہے بلکہ نا ممکن۔ناظرین سے گزارش ہے کہ اس مادی دور اور مصروف ترین دور میں میرا یہ کالم نہ صرف پڑھیں بلکہ غور سے بار بار پڑھ کر دل ودماغ میں بٹھاۓمریض اور شفاء میں بہت بڑا فلسفہ چھپا ہوا ہے۔ایلو پیتھک بھی انگریزی طریقہ علاج والے اس بات سے منہ موڑے ہوئے ہیں یا کے پاس روح والی ادویات نہیں ہیں کہ وہ نہیں بتا سکتے کہ اصل مرض کیا ہے؟ مرض کیوں ہوا ہے ؟ اور اسی بیماری کیا ہے، وہ ہڈیوں گوشت پوست کے ڈھانچہ ہی کو آدمی خیال کرتے ہیں اور جانچا کرتے ہیں۔ یہ حضرات معالجين صرف مریضوں کو تجربات کی بناء علاج کرواتے ہیں اور تختہ مشق بنائے ہوئے ہیں کوئی ٹھیک دماغ انسان اسکو قبول نہیں کرسکتاہماری اصل نفس ہے نہ کہ جسم ۔ اگر ایک معالج ہزاروں ٹسٹ تجویز کریں اور لاکھوں روپے کے یہ ٹیسٹ کر لینے کے باوجود تمام معالج یہ کہے کہ آپکے تمام ٹیسٹ صاف ہیں ٹھیک ہیں ۔ تو کیا ؟ جبکہ مریض کہتا ہے مجھے تکلیف ہے میں مر رہا ہوں۔اسی طرح کی دوسری مثال پیش کی جاسکتی ہے ۔ یہ ایک مریضں کے بازو میں یا ٹانگ میں کینسر ہے تو کیا اس ٹانگ بر بازو کو کاٹ دینے سے مریض صحتیاب ہوجائے گا؟ نہیں بلکہ کاٹ لینے کے باوجود بھی یہ بچوں اور خاندانوں میں چلتا رہے گا ۔ نسل در نسل) اسی طرح کسی جسم پر خارش ہے تو کیس خارجی مریم وغرہ لگانے سے مریض شفا یاب ہوجائےگا ؟ ظاہر ہے کہ نفس مادی جسم نہیں ہے نہ جسم نفس ہے ۔ دوسرے لفظوں میں مادی جسم وجود میں آتا ہے مگر مادی جسم سے نفس وجود میں نہیں آتا اب سوال ہے کہ مریض کون ہے اپنی بناوٹ سے وہ حساس ہے یا نہیں دل کا مضبوط ؟ کیونکہ مادی جسم اور اعضاء میں بیماری ہونے سے پہلے جسکو تکلیف شروع ہوئی وہ نفس تھا تو پھر اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں۔درحقیقت نفس ہے نہ کہ مادی جسم نفس” کیا ہے۔ اس بات کا جواب دینے کیلئے بڑے علماء اور فلسفر دان آج تک سر کردن رہے ہیں، مرنے کے بعد گر جسم انسانی موجود رہتا ہے ہڈیاں رگ وریشہ ، مگر نفس جسم میں نہیں ہوتا دوسرے الفاظ میں کہہ سکتے ہیں کہ نفس سرحشمہ خیالات ہیں۔ خیالات پیدا ہو کر انسان بیمار یا روبہ صحت حالات ، ماحول کیوجہ ہوتا ہے بنیادی نقص کو سمجھے بغیر مریضوں کو شفاء دینا بہت مشکل کیونکہ یہی بنیادی نقص ہی تمام بیماری کی جڑ ہے ۔ (آئمہ) سے شروع ہوا ہے انسان بیمار اس وقت ہوتا ہے جب انسان غیر محفوظ ہو اور اسی غیر محفوظ حالت ہی کو بیماری کا سبب کیا جا سکتا ہے۔ مگر ان کے نتائج انسان کے ذاتی جذبات و طبیعت کے مطابق مختلف ہوا کرتے ہیں۔ روح بھی یا دوسرے لفطوں میں روحانی طاقت بھی خدائی طاقت کا ایک ذرہ ہے۔اور کوئی بھی انسان اسی طاقت کو حاصل کئے بغیر اس طاقت کا احساس کئے بغیر خدا کے نور سے منور نہیں ہوسکتا۔ اور وہ کیا ہے؟ آواز ہے۔ دم درور ہے۔ اور دم درود جیسے نہ نظر آنے والی چیز یا بری بات گالی وغیرہ دماغ اور جسم پر اثر کرتی ہے، جو کہ روح کو تڑپاتی ہے۔ اسی طرح ہومیو ادویات ہیں ہومیو کے موجود بوتل میں دوا نظر نہیں آتی اور نہ وزن کیا جاسکتا ہے دنیا کی کسی بھی لیبارٹری میں اس بوتل میں موجود ادویہ امریکہ، فرانس جرمنی، جاپان کی لیبارٹری میں نہیں معلوم ہوسکتا ہے۔ بغیر ہومیو ڈاکٹر کہ جس نے یہ دوا بنائی۔ یہی بالمثل دوا روح جو کہ نظر نہیں آتا یہ دوا اس روح سے جڑی ہے ۔ اور بیماری کو جڑ سے باہر نکال کر پھینکتی ہے Diamond cuts Diamond لوہا لوہے کو کاٹتی ہے۔ جب انسانی جسم جل جاتا ہے یا کوئی سوئی چبو دی جاتی ہے تو درد کی صورت میں روح ہی ہے جسکو تکلیف پہنچی ہے نہ کہ جسم کو، احساس کمتری اور احساس برتری بھی روح کو لگنے والی بیماری ہے۔ مگر یہ بھی ماحول کا حصہ ہے۔ ھومیوپیتھی میں اس بیماری کا علاج ہے جبکہ ایلوپیتھی میں نہیں۔ شک کی ہماری کا علاج ہے جبکہ انگریزی میڈلین میں اس روحانی بیماری کا علاج موجود نہیں ھے واه هومیوپیتھی واہ کالم نگار پلاسٹک سرجن ڈاکٹر عبیداللہ کو بھی چیلنج کرتا ہوں کہ تم تمام عمر روپے کما کر صرف جسم کا علاج کیا روح کے لفظ کو چھوا تک نہیں۔

(کالم نگار ڈاکٹر مبارک علی فرنٹیئر ہومیو کالج میں لیکچرر رہ چکے ہیں جبکہ گزشتہ تیس سالوں سے ہومیوپیتھک پریکٹیشنر)

کنسلٹنسی کے لئے اس نمبر پر رابطہ کریں +923459171038

ویب ڈیسک

Written by