سوشل میڈیا نے رسوا کیا

نوجوان کا جرم بس یہ تھا کہ اس نے نشے کی حالت میں ویڈیو بنائی بلکہ ویڈیو تو اس کے دوستوں نے بنائی تھی۔ ایسا ہی تھا ویڈیو اس کے ساتھیوں نے بنائی تھی۔ تمام دوست نشے میں نوجوان کی باتوں سے لطف اندوز ہورہے تھے یا پھر شاید یہ دوست اس کو داد کے ساتھ ساتھ الفاظ بھی بتارہے تھے۔ ایک دوست بتاتا ہے کہ وہ کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے لائیو ہے جبکہ نوجوان ہوش و حواس میں نہیں تھا وہ بولتا چلاجاتا ہے جس کے سنگین ترین نتائج سامنے آتے ہیں۔

اس میں پولیس کا کیا رول تھا اور کب کس نے غلط اختیارات کا استعمال کیا وہ قابل مذمت ہے تاہم اس پورے واقعے میں نوجوان کے دوستوں نے جو کردار ادا کیا وہ انتہائی غیرذمہ دارانہ اور افسوس ناک ہے۔ اس حال تک پہنچانے کے ذمہ دار وہی لوگ ہے جنہوں نے بند کمرے میں ہونے والی ذاتی محفل کی ویڈیو نتائج سوچے بغیر شئیر کردی۔ چند لمحوں کی موج مستی اور ہنسی خوشی نے نوجوان کے لئے کئی ایک مسائل اور مشکلات کھڑے کردئیں۔

یہ پہلا واقعہ نہیں ہے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے کسی انسان کو اتنا نقصان پہنچا ہو۔ ایسی بیشتر مثالیں موجود ہیں جب کوئی بندہ انجانے میں اپنی، خاندان یا پھر دوستوں کی تصاویر یا ویڈیوز جان بوجھ کر یا پھرغلطی سے شئیر کردیتے ہیں اور پھر ساری عمر پچھتاتے ہیں۔ اس نوجوان کا بھی یہی حال ہوا۔ دوستوں نے ویڈیو بناکر شئیر کردی اور ایک بار انٹرنیٹ پر جانے کے بعد وہ بے قابو ہوئی اور چند ہی لمحوں میں ایسی وائرل ہوئی کہ متعلقہ محکمہ حرکت میں آگیا اور نوجوان کو نشان عبرت بنا دیا۔

دوسری جانب ابتدا میں پولیس کی جانب سے ایک ہلکی پھلکی ویڈیو جس میں نوجوان پولیس کی (شاید ڈر کی وجہ سے) تعریف کرتا ہے اور معافی مانگتا ہے۔ لیکن دوسرے دن بعد ایک اور ویڈیو شئیر ہوجاتی ہے جس کے بعد محکمہ پولیس بھی تنقید کی ذرد میں آجاتی ہے۔ دوسری ویڈیو کس نے اور کیوں بنائی؟ کیا اس کو اس ویڈیو کے شئیر کرنے کے نتائج کا پتہ تھا؟ یہ ویڈیو کس کی اجازت پر شئیر کی گئی؟ ان سب کا جواب تو مکمل تحقیقات کے بعد ہی پتہ چلے گا۔ لیکن دونوں اطراف پر غلطیاں ہوچکی ہیں اور ایسی غلطیاں جس کے نتائج سے شاید ویڈیو بنانے والے دوست اور پولیس اہلکار ناواقف تھے۔ دونوں جانب ناقابل تلافی نقصان ہوچکا ہے۔ اگر جلدبازی میں چند لمحوں کی شعل مستی کی خاطر اس قسم کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے سے اجتباب کیا جائے تو بہت سے لوگوں کی عزت بچ سکتی ہے۔

نجی محفل کے مناظر اور سرکاری معاملات وہی تک محدود رہیں تو بہتر ہوگا۔ یہاں پر یہ ہرگز مراد نہیں کہ نجی محفلوں یا پولیس تھانوں میں کچھ بھی کیا جائے، تاہم اگر ان معاملات کو سوشل میڈیا کی زینت نہ بنائی جائے تو مستقبل میں پچھتاوے اور پریشانی سے بچاجاسکتا ہے۔

Written by 

گزشتہ ایک دہائی سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہے۔ ملکی و بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے اداروں کے ساتھ منسلک رہ چکے ہیں اس کے علاوہ ڈویلپمنٹ جرنلزم کے شعبے میں مہارت رکھتا ہے۔