شادی کب کرو گی؟

شادی کب کرو گی! ایک ایسا جملہ جو ایک سوال بن کر ہر اس لڑکی لڑکے کے گرد گھومتا ھے اور خاص کر جن کی عمر 25 سال سے زائد ہوچکی ہو ۔ یہ سوال پوچھنے والے کوئی غیر نہیں ہو تے بلکہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو آپ کے قریبی دوست یا رشتہ دار ہو۔ میں اکثر یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ اس سوال کا آخر مقصد کیا ھے، اس سے کیا لوگوں کو کوئی تسکین ملتی ہے یا پھر ان کی نظر میں زندگی کا مقصد صرف شادی ہی ہے۔
میرے خیال سے سوال کرنے والا بھی یہ نہیں جانتا کہ میں یہ سوال کیوں کررہا ہوں اور شاید جس سےسوال ہورہا ہو اسے بھی اس کی کوئی خبر ہوگی، کیونکہ شادی میرے خیال سے ایسی چیز نہیں جو کسی کے چاہنے نہ چاہنے سے ہو جائے میرے خیال سے یہ تو قسمت ہے جب اللہ کی طرف سے حکم ہوگا اس کا جواب سب کو مل جائے گا۔
کبھی کبھی تو مجھے لگتا ھے یہ سوال کرنے والا مزے لینا چاہتا ہے لیکن اس سوال سے بھلا کیا دلی تسکین ملتی ہوگی انہیں۔
سوشل میڈیا پر پچھلے دنوں کسی شمالی امریکہ کی ایک خبر چپھی تھی جس میں ایک شخص نے اپنے ہمسایے کا قتل صرف اس لیے کردیا کیونکہ وہ روزانہ آتے جاتے اس سے شادی کے بارے میں سوال کرتا تھا، اب بھلا اس کے پیچھے کہانی کیا تھی مگر ہمارے ہاں اکثر لوگوں نے اس خبر کو شئیر کرکے اور اپنے دوست احباب کو اس میں ٹیگ کرکے اپنے جزبات کا اظہار کیا جیسا کہ وہ شادی کا سوال پوچھنے والوں کو اپنے دل کی کیفیت بیان کررہا ہو۔
خیر ان سوالوں کے جواب میں لوگ خاموش رہنے یا صرف مسکرا کر ہی آگے بڑھ جاتے ہیں، ویسے میں اکثر سوچھتی ہوں کہ زندگی کا مقصد صرف شادی کرنا ہی ھے، ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ یہاں انسان کے کیریئر کی کوئی اہمت نہیں۔
اور پھر جب بات خواتین کی آتی ہے تو ان کے کریکٹر کا اندازہ بھی اسی بات سے لگایا جاتا ہے کہ اس کی کس عمر میں شادی ہوگئی ہے، مسئلہ زیادہ پڑھی لکھی اور زیادہ عمر لڑکیوں کو اس لئے پسند نہیں کیا جاتا کہ ان کا نخرہ اور کریکٹر برداشت کے قابل نہیں ہوتا۔
ضروری نہیں کہ انسان کم عمری میں شادی کرے شادی کے لئے بہترین ہمسفر کی تلاش ہر کسی کو ہوتی اور اگر کسی کو بہترین ہمسفر نہیں مل پاتا تو کیا وہ اب کسی ایرے غیرے نتع غیرے سے شادی کرلے کیونکہ شادی تو بھئی زندگی کا آخری مقصد ہے۔
بعض اوقات لڑکیوں کی شادی کی عمر اس لئے بھی نکل جاتی ہے کیونکہ معاشرے نے لڑکی کے جہیز کے لئے جو کٹھن ضابطے بنائیں ہیں غریب والدین ان پر پورا نہیں اُتر پاتے، سونے کی قیمتیں بھی اسمان سے باتیں کررہی ہیں، غریب گھرانوں کے لڑکے ہو یا لڑکیاں سبھی پریشان ہیں۔
آخری بات لوگوں کے حالات اور مستقبل کے پلاننگز جانے بغیر شادی کرنے کا سوال ہرگز نہ کرے کیونکہ جو سوال آپ کے لئے ایک نے ضرر سا مزاق پر مبنی لگتا ہے وہ شاید آپ جانے انجانے میں ان کے لئے تکلیف کا باعث بن رہا ہو۔

Written by 

ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والی صحافی اور بلاگر قراۃالعین نیازی آگاہی وی لاگ کے ساتھ ایک سال سے وابسطہ ہے، ماس کمیونیکیشن میں پشاور یونیورسٹی سے ماسٹر کرنے کے بعد نجی نشریاتی ادارے آے آر وائے کے ساتھ ڈیسک پر کام کیا۔ پشاور یونیورسٹی کے ریڈیو سے کمپس راؤنڈ اپ بھی کرتی رہی ہیں۔ آج کل آگاہی وی لاگ کے ساتھ ویب ایڈیٹر اور بلاگر کے طور پر کام کر رہی ہیں