رمدھان/رمضان کی گردان اور تلفظ کا مسئلہ

پیدائش سے لے کر جوانی تک اپنی شرارتیں، تعلیم، محنت مزدوری  کی زندگی اسی شہر پشاور میں ہی گزری، جب میں آٹھویں جماعت کا طالبعلم تھا تو ہماری ایک استانی تھی پڑھانے کا انداز بہت پیارا تھا انتہائی شفیق۔ پشاور کے اکثر اردو میڈیم سکولوں میں انگریزی کی کلاس بھی پشتو میں ہی پڑھائی جاتی ہے کیونکہ انگریزی تو کسی کو سمجھ میں آنے سے رہی اور نہ ہی کبھی کسی نے سمجھانے کی کوشش کی باقی رہا کتابوں میں لکھا تو وہ ویسے ہی رٹایا جاتا ہے۔

استانی صاحبہ کو ہمیشہ ایک گلہ رہتا تھا وہ کہتی تھی ہم انگریزی بھی پشتو میں بولتے ہیں مثلاً جب کسی انگلش لفظ کی جمع کو پشتو میں بولا جاتا ہے تو اس پر بھی پشتو گرائمر کے اصول ہی لاگو کئے جاتے ہیں، جیسا کہ ‘پین’ کو پین-نونہ، ٹسٹ کو ٹسٹونہ، موبائل کو موبائلونہ۔

دوسری جانب ہمارے باقی اساتذہ کوشش کرتے کہ ہم اردو کے الفاظ کو اردو کے انداز میں کہے اور انگلش کو انگریزی انداز میں ہی ادا کرے، یونیورسٹی تک آتے آتے انگریزی تو پھر بھی سنور گئی مگر اردو کے الفاظ آج بھی نہیں سدھرے۔

ہر زبان کے الفاظ کو اس کے لہجے اور انداز میں ادا کرنا ہی اس زبان کے ساتھ مکمل انصاف ہے، اور یہ اصول بھی افاقی ہونا چاہئے یہ نہ کہ ایک زبان کے لئے ایک اصول اور دوسری کے لئے دوسرا اصول۔

ہاں مادری زبان کے علاوہ کوئی لہجہ اتنی اسانی کے ساتھ زبان پر نہیں چڑھتا اسلئے اگر کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کا مذاق نہیں اُڑھانا چاہے، پشتون ہو یا پنجابی یا سندھی اکثریت آج تک اردو کو ٹھیک طرح سے بول نہیں سکا مگر میڈیا پر مذاق سندھی اور پشتون کا ہی بنتا ہے، خیر یہ الگ بحث ہے۔

رمضان کی امد پر پچھلے سال کی طرح اس بار بھی وہی بحث چڑ گئی ہے کہ جی ماہ صیام کو رمدھان بولا جائے یا رمضان؟ ہمارے ایک محترم لکھاری جن کی تحریروں سے کافی کچھ سمجھنے اور سیکھنے کا موقع ملا ہے، آج فرمارہے تھے کہ پاکستان میں شدت پسندی اور انتہا پسندی کی اصل جڑے ہی اس لفظ رمدھان میں مضمر ہیں اگر قوم نے کسی طرح سے اس لفظ کو رمدھان کے بجائے رمضان کر دیا تو راوی چین ہی چین لکھے گا۔

یہاں پر بھی میں اوپر لکھا گیا اصول اپناوں گا کہ عربی لفظ کو عربی انداز میں بولنا بہتر ہے لیکن اگر کوئی نہیں بول سکتا کیونکہ اس کی مادری زبان نہیں ہے تو اسے ‘رمضان’ اور ‘روزوں کا مہینہ’ کہنے میں بھی قباحت نہیں ہے۔

عمر فاروق

Written by 

ملٹی میڈیا صحافی اور بلاگر عمرفاروق، اگاہی وی لاگ کے علاوہ بین القوامی ادارے وائس آف امریکہ کی اردو سروس کے ساتھ بھی منسلک ہیں، وہ خیبرپختونخوا اور اس کے ساتھ ملحقہ قبائلی اضلاع سے رپورٹنگ کرتے ہیں، صحافت اور تعلقات عامہ میں پشاور یونیورسٹی سے ماسٹر کرنے کے بعد وہ جرمن ادارے جی آئی زیڈ کے پروگرام "انڈیپنڈنٹ پراجیکٹ رپورٹنگ" کے ساتھ منسلک رہے جہاں پر قبائلی اضلاع سے رپورٹنگ کی۔ علاقائی انگریزی اخبار "نارتھ ویسٹ فرنٹیئر" کے علاوہ آن لائن ٹیلی ویژن "ماٹی ٹی وی" سے خواتین اور ثقافی ہم اہنگی پر کام کیا۔ صحافتی تجربے کے علاوہ عمرفاروق عبدالولی خان یونیورسٹی کے شعبہ صحافت میں ویزیٹنگ لیکچرر بھی رہ چکے ہیں جہاں وہ طلباء کو نیوز میڈیا پروڈکشن سکھاتے رہے ہیں۔ صحافت برائے امن اور ترقی میں وسیع تجربہ کے علاوہ جنگ زدہ علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کے تربیتی پروگرام کا حصہ رہ چکے ہیں جبکہ علاوہ ملکی سطح پر صحافیوں کے حفاظت و تربیت کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔