پب جی گیم، نوجوان اور پاکستان کی شہرت

پاکستان کا سب سے بڑا مسٗلہ گزشتہ روز عارضی طور پر ختم ہوچکا ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے پب جی گیم پر عارضی پابندی لگاکر اس سنگین مسئلے کا کسی حد تک حل ڈھونڈ نکالا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس گیم کی وجہ سے بچوں اور خصوصا نوجوانوں پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ اس گیم کو بند کرنے کے لئے کئی لوگ سرگرم تھے۔ آخر کار ان کی دعائیں اور کوششیں رنگ لائی اور یہ گیم پاکستان میں بند ہوگئی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے اس کو بلاک کرنے سے لوگ اس گیم کو کھیلنا چھوڑ دینگے؟ گزشتہ روز سوشل میڈیا پر بہت سے نوجوان پب جی کو پراکسی چینلز یا وی پی این کے ذریعے ان بلاک کرنے حوالے سے تبادلہ خیال کرتے نظر آرہے تھے۔ تو یہ بات تو طے ہے کہ پابندی لگانے کے باوجود بچے اس گیم کو کھیلنا بند نہیں کریں گے۔ جس طرح کچھ عرصہ قبل پاکستان میں یوٹیوب پر پابندی لگائی گئی تھی تو کیا لوگوں نے یوٹیوب دیکھنا بند کردیا تھا؟ ہرگز نہیں۔۔۔ بلکہ استعمال میں اضافہ ہوگیا تھا۔ تو پھر اس اقدام کا بھی حاصل ہرگز یہ نہیں ہوگا کہ بچے اور نوجوان پب جی گیم کھیلنا چھوڑ دینگے بلکہ یہ لوگ اس گیم تک چور دروازوں کی مدد سے رسائی حاصل کرینگے بلکہ کر چکے ہیں اور اس کو روکنا اتھارٹی کے بس کی بات نہیں ہے۔
دوسری جانب اس گیم پر مکمل پابندی لگانے کے حامی لوگ اس بات سے ناواقف ہے کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان کے بھی کچھ نوجوان اس گیم کی وجہ سے ہر مہینے لاکھوں روپے کما رہے ہیں۔ پاکستان میں ایسے پب جی پلیئرز موجود ہیں جوکہ اس گیم کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت کماچکے ہیں۔ پریڈیٹر، سیف گیمینگ، احمد گیمینگ، رنگنار لائیو گیمنگ، ڈاکٹر پیکاچو، ایس پی جوکر، خان صاحب68، زبیر وغیرہ ایسے پاکستانی پلئیرز ہیں جن کو پوری دنیا جانتی اور مانتی ہے۔ ان جیسے دیگر کئی پب جی کھیلنے والے ملکی اور بین الاقوامی پب جی گیم کے ٹورنامنٹس میں حصہ لے چکے ہیں۔ ان پلیئرز کو لوگ صرف اور صرف ان کی گیم کی وجہ سے جانتے ہیں اور سوشل میڈیا پر فالو کرتے ہیں۔ ان کھلاڑیوں کی لائیو سٹیریمنگ اور گیم پلے کو روزانہ لاکھوں کی تعداد میں دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان میں ہزاروں ایسے نوجوان موجود ہیں جوکہ اس گیم کی وجہ سے کمائی کررہے ہیں۔ توکیا ان گیمرز اور ان کے چاہنے والوں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہورہی؟
سوشل میڈیا پر ایک دوسری بات بھی زیربحث ہے کہ کیا ’پب جی گیم‘ ٹک ٹاک سے بھی ذیادہ خطرناک تھا جس کو بند کیا گیا؟ کیا ٹک ٹاک کی وجہ ہمارے نوجوان بری طرح متاثر نہیں ہورہے؟ کچھ سوشل میڈیا صارفین کا خیال ہے کہ ٹک ٹاک کی وجہ معاشرے میں بے حیائی پروان چڑھ رہی ہے اس کو بھی پاکستان میں بند کرنا چائیے۔
پب جی کے خلاف سنگین اقدامات کرتے ہوئے سرکاری مشینری نے اس گیم کو عارضی طور پر بند کرکے ملک کو ایک بڑی مصیبت سے بچا تو لیا ہے لیکن اب ملک کے نوجوان اس بات کے منتظر ہیں کہ حکومت کب ملک میں موجود دوسرے مافیا کو بھی لگام لگارہی ہے۔

Written by 

گزشتہ ایک دہائی سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہے۔ ملکی و بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے اداروں کے ساتھ منسلک رہ چکے ہیں اس کے علاوہ ڈویلپمنٹ جرنلزم کے شعبے میں مہارت رکھتا ہے۔