کیا نیب افواج پاکستان کے خلاف کاروائی کرسکتا ہے؟ عمران خان کی درخواست

سپریم کورٹ میں میں نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت عمران خان کےوکیل کے افواج پاکستان کے نیب کی دسترس سے باہر ہونے کے سوالات پر دلائل افواج پاکستان مکمل طور پر نیب کی دسترس سے باہر نہیں، وکیل خواجہ حارث آرمی افسران صرف سروس کا احتساب دوران سروس نیب نہیں کر سکتی، وکیل خواجہ حارث آرمی افسران اگر دوران سروس کسی وفاقی یا صوبائی ادارے میں تعینات ہو تو کیا اس کا احتساب ہو سکتا ہے؟ جسٹس منصور آرمی افسران پر آرمی ایکٹ لاگو ہوتا ہے نیب قانون نہیں، جسٹس اعجازالاحسن نیب قانون میں کہیں نہیں لکھا کہ آرمی افسران کا احتساب آرمی ایکٹ کے تحت ہو گا، جسٹس منصور علی شاہ آرمی ایکٹ نیب کے دائرہ کار کو محدود نہیں کر سکتا، جسٹس منصور علی شاہ آرمی افسران سروس میں جو بھی کریں اس کا احتساب ریٹائرمنٹ کے بعد ہو سکتا ہے، وکیل خواجہ حارث آرمی افسران کو نیشنل سیکیورٹی کے تحت دوران سروس نیب قانون سے تحفظ دیا گیا ہے، جسٹس اعجازالاحسن وزیراعظم اور وزیراعلی کو قومی فیصلوں پر احتساب سے استثنی حاصل ہے، جسٹس منصور علی شاہ سوال یہ یے وزیراعظم اور وزیراعلی کو حاصل استثنی افواج کو کیسے دی جا سکتی ہے؟ جسٹس منصور علی شاہ عدالت مانے یا نا مانے آرمی افسران کو تحفظ دینا ہی پارلیمنٹ کی منطق ہے، وکیل خواجہ حارث کیا دنیا کے کسی اور ملک میں افواج کو یہ استثنی حاصل ہے جو پاکستان میں ہے؟ جسٹس منصور علی شاہ سول سرونٹس بھی ملک کی خدمت پر معمور ہے، انہیں نیب قانون میں استثنی کیوں نہیں دیا گیا؟ جسٹس منصور اگر آرمی افسر کرپشن کر رہا ہے تو چالیس سال انتظار کریں کہ ریٹائر ہو تو احتساب کیا جائے گا؟ جسٹس منصور آرمی افسران کمیشن حاصل کرنے کے بعد صرف 18 سال سروس میں رہتے ہیں، جسٹس اعجازالاحسن افواج پاکستان کا اندرونی کنٹرول، منیجمنٹ اور احتساب کا طریقہ کار ہے، جسٹس اعجازالاحسن آرمی میں ہونے والی سزائیں بھی عام سزاؤں سے سخت ہوتی ہیں، جسٹس اعجازالاحسن

Written by