اقلیتی برداری کی عبادت گاہوں میں کورونا بچاؤ حفاظتی اقدامات

پشاور: گردواروں اور مندر میں کورونا سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات
کورونا وائرس پھیلنے کے بعد دنیا بھرکی طرح پاکستان میں بھی باقی حفاظتی اقدامات کے ساتھ ساتھ جگہ جگہ حفاظتی سپرے کیے جارہے ہیں۔ اس سلسلے میں پشاورمیں مساجد کے ساتھ ساتھ اقلیتی برادری کی عبادت خانوں میں بھی متروکہ وقف املاک کی جانب سے حفاظتی سپرے کیے جارہے ہیں تاکہ لوگ اس وبا سے محفوظ رہ سکیں۔
پشاور میں متروکہ وقف املاک کی جانب سے گردوارہ بائی جوگا سنگھ ڈبگری گارڈن اور گردوارہ بائی بیبا سنگھ ہشت نگری کے کیئر ٹیکر محمد اشفاق نے بتایا کہ پشاور کے گردواروں اور کالی باڑی مندر میں چیئرمین ایواکوائی ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ ڈاکٹر عامر احمد خان کی ہدایت پرکورونا وائرس سے بچاؤ کے سپرے کیے گیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سپرے کئی بارکروایا گیا اور جب بھی ضرورت ہوگی اقلیتی برادری کی ہر طرح مدد کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ سپرے کے ساتھ ساتھ گردواروں اور مندر میں باقی حفاظتی اقدامات بھی اٹھائے جارہے ہیں اور اس سلسلے میں ان کو سینیٹائرز بھی مہیا کیے گیے ہیں جبکہ واش بیسن کے ساتھ صابن بھی رکھے گئے ہیں اور لکھی ہوئی تحریریں آویزاں کی ہے کہ ایک گھنٹے میں ضرور اپنے ہاتھوں کو 20 سیکنڈ تک دھوئیں۔
پشاور میں پاکستان سکھ گردوارہ پربندک کمیٹی کے ممبربابا ہرمیت سنگھ نے کورونا وائرس سے بچاو کے لیے حفاظتی اقدامات پرچیئرمین ایواکوائی ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ آئندہ بھی اس حوالے سے اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب پشاور میں کالی باڑی مندر کے صدر آکاش رام لال نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں جس طرح ان کا خیال رکھا گیا وہ انکی امیدوں سے بڑھ کرہے۔
ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز محمد طارق وزیر اور ڈپٹی سیکرٹری عمران گوندل کا کہنا ہے کہ جب تک کورونا وائرس مکمل طور پرختم نہیں ہوجاتا عبادت خانوں میں حفاظتی سپرے کا عمل جاری رہے گا۔
واضح رہے کہ چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے کورونا وائرس نے اب تک پوری دنیا میں دو لاکھ سے افراد کی جانیں لی ہیں جبکہ لاکھوں افراد اس سے متاثر ہیں۔
پاکستان میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 761 ہے جب کہ مصدقہ مریضوں کی تعداد 35339 تک جاپہنچی ہے۔ اب تک سب سے زیادہ اموات خیبرپختونخوا میں سامنے آئی ہیں جہاں کورونا سے 275 افراد انتقال کرچکے ہیں جب کہ سندھ میں 234 اور پنجاب میں 214 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔
اس کے علاوہ بلوچستان میں 27، اسلام آباد 6، گلگت بلتستان میں 4 اور آزاد کشمیر ممیں مہلک وائرس سے ایک شخص جاں بحق ہوا ہے۔

Written by 

صحافی و براڈکاسٹر خالدہ نیاز نے 2013 میں پشاور یونیورسٹی سے جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر حاصل کی، گزشتہ چھ سال سے وہ صحافت کے شعبے سے وابسطہ ہے وہ مقامی ریڈیو میں پروڈیوسر، ایڈیٹر اور پریزنٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہے ریڈیو کے علاوہ خالدہ انسانی حقوق اور خواتین کے مسائل پر بھی لکھتی ہیں۔ آپ خالدہ نیاز کا بلاگ اب آگاہی وی لاگ پر بھی پڑھ سکیں گے۔