وال سٹریٹ جرنل کا کالم کیسے اخبار کے کھاتے میں ڈال دیا گیا؟

ریاض غفور

میڈیا ماہرین کے مطابق کسی بھی نیوز پیپر میں چھپنے والا کالم اخبار کا نکتہ نظر نہیں ہوتا بلکہ یہ متعلقہ شخص کا ذاتی خیال یا نظر ہوتا ہے. حال ہی میں جیو نیوز نے دی وال سٹریٹ جرنل میں چھپنے والے ایک کالم کو اخبار کا نکتہ نظر قرار دے کر اپنی ویب سائٹ پر خبر لگالی، جس سے قارئین کو مس لیڈ( گمراہ) کیا گیا. کھوج لگانے پر معلوم ہوا کہ وال سٹریٹ جرنل میں کالم لکھنے والے سدانند دھومے نے نومبر 10 کو اوپینئین لکھا جس میں انہوں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی سیاست کے متعلق اپنا ذاتی خیال پیش کیا. سدانند دھومے نے اپنے لکھے ہوئے کالم کو ذیل ٹویٹ لنک کے ساتھ شئیر کیا ہےhttps://twitter.com/dhume/status/1590860825580929024?t=LRuQYklykwJWlxuF4xoiaw&s=19 دوسری جانب پاکستان کے مشہور ٹی وی چینل جیو نیوز نے اپنی ویب سائٹ پر سدانند دھومے کے کالم پر نومبر 12 کو خبر چھاپی. جس میں جیو ویب سائٹ نے مذکورہ کالم کو دی وال سٹریٹ جرنل کا نکتہ نظر قرار دیا. جیو نیوز کی سرخی کچھ یوں ہے "عمران خان نے پاکستان کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے: امریکی اخبار”، جبکہ وال سٹریٹ جرنل کی سرخی کچھ یوں ہے. Opinion | Imran Khan Pushes Pakistan to the edgeدونوں کا موازنہ کرکے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وال سٹریٹ جرنل نے اس کو اوپینین کا حوالہ دے کر پبلش کیا نہ کہ اخبار کا حوالہ، جبکہ جیو نیوز نے کالم کو خبر کہہ کر پبلش کیا. مزید تفصیل جیو نیوز ویب سائٹ لنک پر کلک کرکے پڑھی جا سکتی ہے.https://urdu.geo.tv/latest/306422- کراچی میں دی نیوز انٹرنیشنل اخبار کے لیے پولٹیکل بیٹ کوور کرنے والے صحافی ادشد یوسفزئی نے متعلقہ خبر پر اپنے تاثرات شئیر کرتے ہوئے کہا کہ جیو نیوز ویب سائٹ نے ایک ذاتی خیال کو اخبار کا خیال قرار دے کر قارئین کو مس لیڈ کیا ہے. انہوں نے کہا کہ قارئین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کسی بھی خبر یا مواد کو ڈبل چیک کرکے اپنی رائے بنائیں نا کہ خبر پڑھ کر آگے شئیر کریں۔ ویب سائٹ کو بھی پروفیشلزم کا مظاہرہ کرکے کالم کو لکھنے والے کے ساتھ جوڑنا چاہئیے.

Written by