مدارس میں یوم آزادی کی تقریبات کا پر نور منظر

یوم ازادی کی تقریبات عام طور پر سرکاری عمارتوں اسکولوں کالجوں میں منائی جاتی ہیں اور کئی سالوں سے اس کی کورج کرتا آرہا ہوں مگر اس بار کسی دینی مدرسے میں یوم آزادی کی تقریبات دیکھنے کا موقع ملا

مجھے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ یوم آزادی کا اصل تقدس ہی یہی ہے کہ اس میں اللہ جل شانہ کا شکر ادا کرنا چاہئے نہ کہ اس میں بے ہنگم شور، مرد و خواتین کی خلوط محفلیں اور گانوں کی طرز پر ملی نغمے بجائے جائے۔ یہ تو ایک عظیم دن ہے اور جامعہ عثمانیہ میں منعقدہ اس تقریب نے میری تشنگی پوری کی۔

ایک پروقار تقریب جس میں بچوں نے ملک سے محبت کا بھرپور اظہار کیا، تقریب کا آغاز پرچم کشائی سے ہوا جبکہ پشاور کے مئیر زبیر علی تقریب کے مہمان خصوصی تھے، جس نے آزادی کو اللہ کی طرف عطا کی گئی ایک بڑی کہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پشاور کو ایک خوبصورت شہر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آزادی میں علماء کا بنیادی کردار رہا ہے۔ملک کی تعمیر وترقی میں ہم سب کومل کر کردار اداکرنا ہوگا۔ آج تمام مکاتب فکر کے باہمی اتفاق و اتحاد اور محبت و احترام کی اشد ضرورت ہے۔ باہمی تعاون سے پشاور کو ایک مرتبہ پھر پھولوں اور امن کا شہر بنا کر دم لیں گے۔ انہوں نے جامعہ عثمانیہ پشاور کو ایک بہتر ین درس گاہ قراردیتے ہوئے کہا کہ یہاں کے طلباء عصری میدان میں بھی کسی سے پیچھے نہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کے مہتمم مفتی غلام الرحمن و دیگر نے کہا کہ مدارس میں حب الوطنی کی تعلیم دی جاتی ہے۔پاکستان کو محفوظ بنانا ہمارا فرض ہے۔ ملک تب ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن ہوگا حب الوطنی کے ساتھ ساتھ مذہب سے بھی محبت ہو۔ قومی تعلیمی پالیسی بناتے وقت اپنے وطن کے ساتھ محبت اور دیانت وامانت کا احساس پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔اس موقع پر طلباء نے ملک کے ساتھ محبت اور وفاداری کے موضوع پر اردو، عربی اور انگریزی زبان میں تقریریں کیں اور مختلف ملی ترانے بھی پیش کیے۔

عمر فاروق

Written by 

ملٹی میڈیا صحافی اور بلاگر عمرفاروق، اگاہی وی لاگ کے علاوہ بین القوامی ادارے وائس آف امریکہ کی اردو سروس کے ساتھ بھی منسلک ہیں، وہ خیبرپختونخوا اور اس کے ساتھ ملحقہ قبائلی اضلاع سے رپورٹنگ کرتے ہیں، صحافت اور تعلقات عامہ میں پشاور یونیورسٹی سے ماسٹر کرنے کے بعد وہ جرمن ادارے جی آئی زیڈ کے پروگرام "انڈیپنڈنٹ پراجیکٹ رپورٹنگ" کے ساتھ منسلک رہے جہاں پر قبائلی اضلاع سے رپورٹنگ کی۔ علاقائی انگریزی اخبار "نارتھ ویسٹ فرنٹیئر" کے علاوہ آن لائن ٹیلی ویژن "ماٹی ٹی وی" سے خواتین اور ثقافی ہم اہنگی پر کام کیا۔ صحافتی تجربے کے علاوہ عمرفاروق عبدالولی خان یونیورسٹی کے شعبہ صحافت میں ویزیٹنگ لیکچرر بھی رہ چکے ہیں جہاں وہ طلباء کو نیوز میڈیا پروڈکشن سکھاتے رہے ہیں۔ صحافت برائے امن اور ترقی میں وسیع تجربہ کے علاوہ جنگ زدہ علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کے تربیتی پروگرام کا حصہ رہ چکے ہیں جبکہ علاوہ ملکی سطح پر صحافیوں کے حفاظت و تربیت کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔