خواتین کے نفسیاتی مسائل اور ان کا حل

خواتین کی ذہنی صحت کے حوالے سے نوشہرہ میں تقریب کا انعقادضلع نوشہرہ کی خواتین میں ذہنی صحت کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کی خاطر ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں کثیر تعداد میں خواتین نے شرکت کی۔ گلوبل نیبر ہوڈ فار میڈیا انوویشنز کے تعاون سے منعقدہ ایک روزہ تقریب میں خواتین کو بتایا گیا کہ وہ کس طرح ذہنی صحت کا خیال رکھ سکتی ہیں اور آجکل کے دور میں کتنا ضروری ہے کہ خواتین کو اس حوالے سے معلومات حاصل ہو۔ تقریب میں ماہر نفسیات اور کلینکل سائیکالوجسٹ عرشی ارباب کو مدعو کیا گیا تھا جنہوں نے خواتین کے مسائل سنے اور انکو اس کا حل بتایا۔ خواتین سے بات چیت کے دوران عرشی ارباب نے کہا کہ جب بھی کسی کو زیادہ نیند آئے یا نیند نہ آئے، رونا آئے کسی کام میں دل نہ لگے، بھوک زیادہ لگے یا بالکل نہ لگے، ہاتھ پاوں میں درر ہو معدے میں درد ہو، دل اداس ہو کہیں بھی جانے کو دل نہ کرے، اکیلے وقت گزارنے کا دل کرے، باہر جانے کا دل نہ کرے اور انکو ہر وقت یہ دھڑکہ لگا رہے کہ کچھ ہونے والا ہے تو ایسے لوگوں کو فورا ماہر نفسیات کے پاس جانا چاہیے کیونکہ یہ سارے دماغی امراض کے علامات ہیں اور اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو اس سے مریض خطرناک حد تک جاسکتا ہے۔ عرشی ارباب نے خواتین کو کہا کہ جب انکے بچے خاص طور پر بیٹیاں جوان ہونے لگے تو انکو چاہیے کہ وہ انکے ساتھ دوستانہ ماحول رکھے کیونکہ دوستانہ ماحول ذہنی صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔ عرشی ارباب نے خواتین کو بتایا کہ جب بھی کسی خاتون کو ڈپریشن یا کوئی اور ذہنی مرض لاحق ہوجائے تو انکو چاہیے کہ ماہر نفسیات سے علاج کروائے نہ کہ وہ دم وغیرہ پر اکتفا کریں۔ انہوں نے کہا کہ جسم کی طرح دماغ بھی بیمار ہوتا ہے جس کا علاج ضروری ہے اور یہ علاج صرف ایک ماہر نفسیات ہی کرسکتا ہے لہذا جب بھی کوئی ایسا مسئلہ ہو تو ماہر نفسیات کے پاس ضرور جانا چاہئے اور اس سوچ سے باہر نکلنا چاہیے کہ ماہر نفسیات کے پاس پاگل لوگ جاتے ہیں۔

خالدہ نیاز

Written by 

صحافی و براڈکاسٹر خالدہ نیاز نے 2013 میں پشاور یونیورسٹی سے جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر حاصل کی، گزشتہ چھ سال سے وہ صحافت کے شعبے سے وابسطہ ہے وہ مقامی ریڈیو میں پروڈیوسر، ایڈیٹر اور پریزنٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہے ریڈیو کے علاوہ خالدہ انسانی حقوق اور خواتین کے مسائل پر بھی لکھتی ہیں۔ آپ خالدہ نیاز کا بلاگ اب آگاہی وی لاگ پر بھی پڑھ سکیں گے۔