خیبرپختونخوا کے اسکولوں میں ایس او پیز پر عمل درآمد مشکل

حِرا خان پشاور کے لیڈی گرفتھ کالج میں گیارہویں جماعت کی طالبہ ہے کرونا وباء کے کم ہونے پر تعلیمی ادارے ایس او پیز کے تحت کھل رہے ہیں، تاہم حِرا تاحال کالج آتے ہوئے ڈر رہی تھی کہ کہیں زیادہ لوگوں کے ملنے سے کرونا وائرس اسے نقصان نہ پہنچا لیں۔
“لاک ڈاؤن کے بعد دوبارہ کالج کھلے تو میں یہاں آنے سے خوف زدہ تھی اور نہ ہی میری والدہ کالج بھیجنا چاہتی تھی،۔
حِرا کا کہنا ہے کہ کالج آنے کے بعد اس کی یہ سوچ بدل گئی کیونکہ یہاں پر اساتذہ کا رویہ بہت اچھا تھا اور یہاں پر حفاظتی انتظامات بھی خوب تھے، اس نے کہا کہ طلباء بھی اپنا خیال رکھ رہی تھے۔
حِرا کا کہنا تھا کہ اسکول انتظامیہ نے ماسک اور سینٹائزرز بھی طلبہ کو دئیے اور اس طرح اس کا خوف ختم ہوگیا۔
پاکستان میں گزشتہ ایک ماہ سے کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے کمی آرہی ہے جس کے پیش نظر حکومت نے تعلیمی اداروں کو کھولنے کا اعلان کیا، تاہم اس کے لئے کچھ ایس او پیز بھی تیار کئے تاکہ ان ہر عمل کر کے اس وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔
لیڈی گرفتھ کی طرح پشاور کے علاقے تہکال میں واقع سرکاری اسکول میں بھی بچے سماجی فاصلے کے تحت تعلیم حاصل کررہے ہیں، اسکول کے پرنسپل ارشد علی خلیل کا کہنا ہے کہ “اسکول میں تعلیم دینا پہلے جیسا آسان نہیں رہا لیکن ہم اپنی پوری کوشش کررہے ہیں کہ طلباء کو وہی ماحول مہیا کریں جو کہ کرونا سے پہلے تھا، انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے وہ اپنے اساتذہ کو لاک ڈاؤن کے دوران بھی وقفے وقفے سے بلاتے رہیں ہیں، اور اس وباء سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کرتے تھے تاکہ طلباء کو ایک بہتر اور محفوظ ماحول فراہم کیا جاسکے

بچوں کو محفوظ ماحول میں تعلیم دینے کے لئے صوبائی حکومت نے یونیسیف کے تعاون سے چار سو چار اساتذہ کو کرونا سے نمٹنے کی تربیت فراہم کی ہے۔ لیکن خیبر پختونخوا میں تینتیس ہزار سے زائد سرکاری تعلیمی ادارے ہیں اور بیشتر اساتذہ کو ایس او پیز کے بارےمیں تاحال تربیت کوئی تربیت نہیں ملی، ارشد علی خلیل نے کہا کے “مجھےایس او پیز کے حوالے سے تو کوئی ایسی ٹریننگ نہیں ملی ہے لیکن میڈیا اور ٹی وی کے ذریعے سے کچھ چیزیں جو سوشل میڈیا پر شیئر ہوتی ہیں تو میری کوشش ہوتی ہے کہ اچھی بات کو خود سے سیکھ لوں،تاکہ ٹریننگ کی ضرورت ہی نہ آئے”۔
خیبر پختونخواہ میں سال ٢٠٢٠ سے ٢٠٢١ کے لئے تعلیمی بجٹ 39 بلین مختص کیا گیا ہے لیکن خیبر پختونخواہ میں اب بھی تقریباً چار ہزار نو سو سرکاری سکولوں میں واش رومز نہیں جبکہ تقریبا ساڑھے چھ ہزار سکولوں میں پانی کی سہولت ہی دستیاب نہیں۔ ایسے میں بچوں کے لئے دن میں کئی بار ہاتھ دھونا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔
دوسری جانب لیڈی گرفت ہائی سکینڈری سکول کی پرنسپل روبینہ قریشی کا کہنا ہے یونیسف کے تعاون سے ہیڈ ٹیچرز کی ٹریننگ کروائی گئی تھی جس میں انہوں نے کرونا سے بچنے کے لیے اور خاص طور پر اسکول میں صحیح طریقے سے ایس او پی پر عمل درآمد کرنے کی تربیت دی تھی، ان کا کہنا ہے کہ ہم نے اسکول کھلنے سے پہلے ہی تمام تر حفاظتی اقدمات پورے کر رکھے تھے۔ “ہماری پوری کوشش تھی کہ اسکول آنے کے بعد بچوں کو ایک بہتر ماحول محفوظ ماحول فراہم کر سکے اور ھم نے پوری طرح اس پر عمل بھی کیا”۔ ان کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے طلبہ پر بہت برا اثر پڑا ہے پچھلے کافی عرصے سے اپنی تعلیمی سرگرمیوں سے دور تھے، آن لائن تعلیم کے حوالے سے انہیں نے کہا کہ نہ ہی تعلیمی اداروں اور نہ ہی حکومت کے پاس اتنے وسائل موجود نہیں ہیں کہ کہ ہم بچوں کو گھروں میں اس طرح سے آن لائن تعلیم دے سکیں، مجھے خوشی ہے کہ اسکول دوبارہ سے کھل رہے ہیں ہماری پوری کوشش ہے کہ طلبہ کے آنے کے بعد ہم ان کی جو کمی رہ گئی ہے تعلیمی وہ پوری کرسکیں ۔
لیڈی گرفت سکول کی طلبہ عروشہ کا کہنا ہے کہ ان کے اسکول آنے سے پہلے ان کے ذہن میں بہت سے سوالات جنم لے رہے تھے کیونکہ انہوں نے ایک لمبا عرصہ گھر میں گزارہ ان کا کہنا ہے کہ انہیں سب دوستوں سے ملنے کی خوشی بھی تھی اور اور کرونا کا ڈر بھی دل میں موجود تھا۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ اسکول کے گیٹ میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے تھرمل گن سے ان کا بخار چیک کیا گیا اس کے بعد ان کو ہینڈ سینیٹائزر مہیا کیا گیا جس کے بعد ان کو کلاس روم میں بھیجا گیا، انہوں نے بتایا کہ ہم اپنا خیال خود بھی رکھتے ہیں فیس ماسک پہنتے ہیں اور اپنے بیگ میں ہر وقت سینیٹائزر ضرور رکھتے ہیں ان کی کوشش ہوتی ہے یہ دوسری طالبات سے فاصلہ رکھ سکیں، طلبہ کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا سے بھی ہم نے کرونا سے بچنے کے لیے بہت سی چیزیں سیکھیں اور ہمارے اساتذہ نے بھی ہمیں بہت اچھے سے کرونا سے بچنے اور جراثیم سے احتیاط کرنے کی تلقین کی ۔

خیبرپختونخوہ کے ڈائریکٹر آ ف ایجوکیشن حافظ ابراہیم کا کہنا ہے کہ ہمارے زیادہ تر سکولوں میں پانی کی سہولت موجود نہیں اور حکومت نے ایس او پیز کے حوالے سے سکولوں کو یہ ہدایت جاری کی ہے کہ وہ پانی ہر صورت فراہم کرے اس کے لیے انہوں نے یہ ترتیب بنائی ہے کہ جہاں پر کنواں نہیں ہے یا جہاں پر پانی کی سہولت موجود نہیں ہے تو وہ ٹینکی لگائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں خود دیکھا کہ جن سکولوں میں پانی موجود نہیں ہے وہاں ٹینکی لگائی گئی ہے اور باہر سے پانی لا کر اس میں بڑھا جاتا ہے
حافظ ابراھیم کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ ہم نے مختلف سکولوں کے پرنسپلز کو ٹریننگ دی اور پھر ان کو ہی ماسٹر ٹرینر بنایا جو جتنے بھی ہائی سیکنڈری سکول ہیں وہاں پر ماسٹر ٹرینر کے عہدے پر کام کرے گا جو سکولز کے اساتذہ کو اور اساتذہ کے علاوہ اسٹاف کو کرونا سے متعلق ٹریننگ دیں گے۔

ڈائریکٹوریٹ آف ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے انفارمیشن مینجمنٹ آفیسر فہد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سکول کو ہر سال پی ٹی سی فنڈ دیا جاتا ہے اس سال پی ٹی سی فنڈز میں سے ٹیچرز کو ماسک، صابن اور ہند سنیٹائز لینے کی تلقین کی گئی، ان کا کہنا ہے کہ ادارہ کی طرف سے اسکولز کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے لیکن فی الحال کوئی ایسی رپورٹ سامنے نہیں آئی جس میں ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کیا گیا ہو ۔
اس کے علاوہ ایسے کمزور اضلاع جہاں پر بنیادی ضروریات موجود نہیں وہاں یونیسف کے تعاون سے صابن ،ہند سینیٹائزر ،فیس ماسک ،ہاتھ دھونے کے لئے پانی کی سہولت میسر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔
اب تک صوبے میں 42 اسکولوں کو ایس او پیز پر عمل درامد نہ کرنے پر بند کردیا گیا ہے، جن میں اکثریت نجی اسکولوں کی ہیں۔ خیبرپختونخواہ کے بہت سے سرکاری اسکولوں میں سہولیات کے فقدان کے باعث ایس او پیز پر عمل درامد مشکل نظر آ رہا ہے۔ تعلیم کے لیے 39 بیلین روپے بجٹ مختص ہونے کے باوجود تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی کمی ہے احتیاطی اقدامات سے متعلق اساتزہ کی تربیت کے نہ ہونے کے باوجود تعلیمی ادارے کھل چکے ہیں۔۔کیونکہ کرونا وائرس کے کیسز میں دوبارہ سے اضافہ ہونا شروع ہوگیا ہے اگر ایسے میں یس او پیز پر مکمل طور پر عملدرآمد نہ کیا گیا اور اسکول میں بنیادی سہولیات نہ دی گئ تو روز بروز کرونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہوتا رہے گا اور شاید دوبارہ لوگوں کو گھر میں بند کرنے کی نوبت آن پڑے ۔

Written by 

سماجی کارکن اور فری لانس صحافی سائرہ مفتی نے پشاور یونیورسٹی سے صحافت اور تعلقات عامہ میں ماسٹر کیا ہوا ہے، وہ ماضی میں پختونخوا ریڈیو کے ساتھ منسلک رہی ہیں اس کے علاوہ بین القوامی اداروں کے ساتھ خواتین کے مسائل پر بھی کام کر چکی ہیں۔ سائرہ مفتی آگاہی وی لاگ کے لئے بلاگز لکھنے کے علاوہ ایڈیٹوریل خدمات بھی انجام دیتی ہیں۔ وہ میڈیا مانیٹرنگ اور ریسرچ کا وسیع تجربہ بھی رکھتی ہیں۔