کرونا کی وجہ سے خواجہ سراؤں پر ذندگی تنگ

‘دو مہینے سے گھر کا کرایہ ادا نہیں کیا بجلی بھی کاٹی جاچکی ہے’
‘میں خود کرائے کے گھرمیں رہ رہی ہوں اور دو مہینے سے میں نے گھر کا کرایہ ادا نہیں کیا، بل نہ دینے کی وجہ سے ہماری بجلی کاٹی جاچکی ہے اور ہم بہت تکلیف سے اپنی زندگی گزاررہے ہیں’
یہ ہے پشاور سے تعلق رکھنے والی خواجہ سرا ماہی گل کی کہانی جو ملک میں کورونا وائرس پھلینے کے بعد نہ صرف گھرمیں محصور ہوکررہ گئی ہے بلکہ اس نے انکو شدید مالی مشکلات کا بھی سامنا ہے۔
خیبرپختونخوا کی خواجہ سرا کمیونٹی کی سابقہ جنرل سیکرٹری نے بتایا کہ کورونا وائرس سے پہلے ان کے پروگرام ہوتے تھے تو روزانہ کچھ نہ کچھ کمائی ہوجاتی تھی جس کی وجہ سے ان کے گھر کا چولہا جلتا تھا اور وہ کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے تھے لیکن جب سے کورونا وائرس پھیلا ہے تو قریبا تین مہینوں سے ان کے پروگرام بند ہیں اور یوں سب خواجہ سرا تنگدستی کی زندگی گزارنے پرمجبور ہیں۔
ماہی گل نے بتایا کہ ان کے پاس نہ ہی راشن کے پیسے ہیں اور نہ ہی گیس کے بل دینے کے پیسے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ فلاحی اداروں نے خواجہ سراوں کو راشن تو دیا ہے لیکن حکومت نے انکی کوئی مدد نہیں کی اور ان کو زیادہ مسئلہ گھر کے کرایوں اور بجلی کے بل کا ہے کیونکہ شادی بیاہ کے پروگرام نہیں ہورہے تو ایسے میں کوئی ان کو پروگرام کے لیے نہیں بلاتا اور یوں سارے خواجہ سرا بے روزگار بیٹھے ہوئے ہیں اور مالک مکان نے ان کا جینا دو بھرکیا ہوا ہے۔
ماہی گل نے گلہ کرتے ہوئے کہا ‘ حکومت نے احساس پروگرام شروع کیا ہے لیکن اس سے خواجہ سرا نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا کیونکہ زیادہ ترخواجہ سرا بچپن میں ہی گھروں سے بھاگ جاتے ہیں اور ان کے شناختی کارڈ نہیں بنے ہوئے جبکہ زیادہ ترخواجہ سرا نے تعلیم حاصل نہیں کی تو ان کو نہیں پتہ کہ کیسے احساس پروگرام سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے، اس سلسلے میں ان کو تربیت دینے کی ضرورت ہے’
ماہی گل نے کہا کہ اللہ کے کرم سے ابھی تک کوئی بھی خواجہ سرا کورونا وائرس کا شکار نہیں ہوا اور احتیاطی تدابیربھی اپنا رہے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کئی کئی خواجہ سرا ایک ہی کمرے میں اکٹھے رہتے ہیں جس سے وائرس پھیلنے کا خدشہ ہے کیونکہ خواجہ سراوں کو کم کرائے پرگھر نہیں ملتے اگر ایک عام بندے کو 10 ہزار میں گھر ملتا ہے تو خواجہ سرا کو 15 ہزار میں ملتا ہے تو ایسے میں خواجہ سرا اکٹھے رہتے ہیں کہ کوئی اکیلا اتنا زیادہ کرایہ نہیں دے سکتا۔
اگرچہ خواجہ سرا حکومت کی جانب سے امداد نہ ملنے کا شکوہ زن ہے تاہم کچھ ایسے ادارے ہیں جو اس وبائی صورتحال میں انکی مدد کررہے ہیں۔
د ہوا لور نامی تنظیم کی انتظامی افسرخورشید بانو نے بتایا کہ کوڈ-19 نے خواجہ سراوں کو بہت متاثر کیا ہے کیونکہ یہ لوگ پہلے ہی مسائل کا شکار ہیں۔ خورشید بانو نے کہا کہ ملک میں کورونا وائرس پھیلنے کے بعد ان کے ادارے نے چارسدہ، پشاور، مردان اور نوشہرہ سے تعلق رکھنے والی 50 خواجہ سراؤں کو راشن اور ہائی جینیک کٹس فراہم کیے اور ابھی کچھ دن پہلے انہوں نے 50 خواجہ سراوں کو میڈیکل کٹس فراہم کیے ہیں جن میں ماسک، دستانے، سینیٹائرز، صابن اور ٹشو پیپرزشامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے مردان، نوشہرہ، پشاور اور چارسدہ میں 20، 20 خواجہ سراؤں کو راشن پیکیجز بھی دیئے ہیں۔
انہوں نے کہا ‘ اس صورتحال میں ہرکوئی ذہنی دباؤ کا شکار ہے تو اس کے لیے ہم نے ‘آؤ بات کریں’ کے نام سے ٹیلی کونسلنگ کا بھی ایک سلسلہ شروع کیا ہے جو پیرسے لے کرجمعے تک صبح 10 سے سہ پہر 4 بجے تک کام کرتا ہے جس میں سائیکالوجسٹ خواجہ سراؤں کو ٹیلی فون کرکے بتاتی ہیں کہ اس دوران کیسے وہ ذہنی دباؤ سے خود کو نکال سکتے ہیں اور انکو مختلف مشورے دیتی ہیں’
خورشید بانو نے کہا کہ خواجہ سراؤں کو کرایہ داروں کی جانب سے بھی تنگ کیا جارہا ہے تو اس سلسلے میں بھی ان کا ادارہ خواجہ سراوں کی مدد کررہا ہے کہ ان کو گھروں سے نہ نکالا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ انکی صحت کے حوالے سے بھی ٹیلی فون کے ذریعے ان کو بتایا جارہا ہے کہ کیسے یہ خود کو کورونا وائرس سے محفوظ رہ سکتے ہیں کیونکہ پانچ، چھ ترخواجہ سرا اکٹھے چھوٹے چھوٹے کمروں میں رہائش پذیر ہیں۔
خیبرپختونخوا میں خواجہ سراؤں کے حقوق کے کام کرنے والے سوشل ورکراور بلیو وینز ادارے سے منسلک قمرنسیم نے بتایا کہ کورونا وائرس نے خواجہ سراؤں کو اس لیے زیادہ متاثر کیا ہے کیونکہ یہ کمیونٹی پہلے ہی سے مسائل سے دوچار ہیں، ان کو صحت کی سہولیات میسرنہیں ہے اور باقی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔
انہوں نے بھی ماہی گل سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاون کی وجہ سے ان کی معاشی زندگی پربرا اثر پڑا ہے اور وہ اس قابل نہیں ہے کہ اپنے گھروں اور بجلی کے بلوں کا کرایہ دے سکیں۔
انہوں نے کہا’ خواجہ سراؤں کے لیے بہت مشکل ہے کہ وہ حفظان اصولوں پرعمل کریں کیونکہ وہ چھوٹے چھوٹے گھروں میں زیادہ زیادہ تعداد میں رہتے ہیں جہاں صرف ایک ہی واش روم ہوتا ہے اور باقی سہولیات بھی نہیں ہوتی تو وہ خود کو اپنے گھروں میں قرنطین نہیں کرسکتے اور رہی بات قرنطین سنٹرز کی تو خواجہ سراوں کو پہلے ہی علاج معالجے میں مشکلات کا سامنا ہے تو ایسے میں وہ کیسے کسی قرنطینہ سنٹرمیں رہ سکتے ہیں’
انہوں نے بتایا کہ وائرس پھیلنے کے بعد کچھ مذہبی سیاسی جماعتوں اور فلاحی اداروں نے راشن اور کٹس کی صورت میں خواجہ سراوں کی مدد کی ہے لیکن خواجہ سراؤں کے مطابق یہ امداد ناکافی ہے کیونکہ ایک تو ان کا ذریعہ معاش پروگرام بند ہے تو دوسری جانب رمضان ہے اور ایک آٹے کے تھیلے اور چند کلو دال پر مہینے سے زیادہ وقت نہیں گزارا جاسکتا۔
قمر نسیم نے کہا کہ حکومت کو چاہیئے کہ وہ خواجہ سراوں کے لیے آن لائن بزنسز، سکلز کے پروگرام شروع کریں تاکہ وہ خود کماکر اپنے مسائل پر قابو پاسکیں۔
دوسری جانب ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفیئرخیبرپختونخوا کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن نور محمد نے اس حوالے سے بتایا کہ ان کا ادارہ خواجہ سراؤں کی فلاح وبہبود کے لیے اقدامات کررہا ہے اور موجودہ صورتحال میں بھی ان کو تنہا نہیں چھوڑا۔
انہوں نے بتایا کہ کورونا وائرس پھیلنے کے بعد اب تک خیبرپختونخوا کے چار اضلاع میں 150 خواجہ سراوں میں راشن تقسیم کرچکے ہیں جن میں سے مانسہرہ میں 65، چارسدہ میں 40، پشاور میں 45 اور ایبٹ آباد میں 10 خواجہ سراوں کو راشن دیا جا چکا ہے جبکہ اور اضلاع میں بھی راشن تقسیم کرنے کا ارادہ ہے۔
خواجہ سراوں کو مالی امداد فراہم کرنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سوشل ویلفیئر محکمہ صوبائی حکومت کی جانب سے گرانٹ ملنے کے بعد ہی خواجہ سراؤں کو مالی امداد فراہم کرسکتا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں اب تک کورونا سے 1334 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ کوڈ-19 سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 64028 تک پہنچ گئی ہے۔
اب تک سب سے زیادہ اموات خیبرپختونخوا میں سامنے آئی ہیں جہاں کورونا سے 432 افراد انتقال کرچکے ہیں جب کہ سندھ میں 396 اور پنجاب میں 410 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
اس کے علاوہ بلوچستان میں 60 ، اسلام آباد 22، گلگت بلتستان میں 9 اور آزاد کشمیر میں مہلک وائرس سے 5 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

Written by