ویکس پینٹنگز کا آخری فنکار


دہشت گردی نے صوبہ خیبر پختوانخواہ میں ہینڈی کرافٹس کی صنعت کو متاثر کیا ہے جو سیاحوں کے سہارے چلتی تھی۔ صوبے کے حالات تو بہتر ہو رہے ہیں لیکن ہنر مند پریشان ہیں کہ اپنے فن کے پرستار انہیں دوبارہ کیسے ملیں گے؟ انہی میں شامل ہیں پشاور کے آخری ویکس پینٹرز میں سے ایک ریاض احمد جو کئی نسلوں سے اس فن سے وابستہ ہیں، تاہم اب گاہک نہ ہونے کی وجہ سے اس کا فن معدوم ہورہا ہے
عمر فاروق

Written by 

ملٹی میڈیا صحافی اور بلاگر عمرفاروق، اگاہی وی لاگ کے علاوہ بین القوامی ادارے وائس آف امریکہ کی اردو سروس کے ساتھ بھی منسلک ہیں، وہ خیبرپختونخوا اور اس کے ساتھ ملحقہ قبائلی اضلاع سے رپورٹنگ کرتے ہیں، صحافت اور تعلقات عامہ میں پشاور یونیورسٹی سے ماسٹر کرنے کے بعد وہ جرمن ادارے جی آئی زیڈ کے پروگرام "انڈیپنڈنٹ پراجیکٹ رپورٹنگ" کے ساتھ منسلک رہے جہاں پر قبائلی اضلاع سے رپورٹنگ کی۔ علاقائی انگریزی اخبار "نارتھ ویسٹ فرنٹیئر" کے علاوہ آن لائن ٹیلی ویژن "ماٹی ٹی وی" سے خواتین اور ثقافی ہم اہنگی پر کام کیا۔ صحافتی تجربے کے علاوہ عمرفاروق عبدالولی خان یونیورسٹی کے شعبہ صحافت میں ویزیٹنگ لیکچرر بھی رہ چکے ہیں جہاں وہ طلباء کو نیوز میڈیا پروڈکشن سکھاتے رہے ہیں۔ صحافت برائے امن اور ترقی میں وسیع تجربہ کے علاوہ جنگ زدہ علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کے تربیتی پروگرام کا حصہ رہ چکے ہیں جبکہ علاوہ ملکی سطح پر صحافیوں کے حفاظت و تربیت کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔