"باندھ کے ہرایا”

فرنود عالم

پی ٹی آئی کے کیمپ سے ایک جملہ مسلسل سنائی دے رہا ہے کہ کپتان کو باندھ کر ہرایا گیا ہے۔ کارکن پنڈی رخ ہوکر گالم گفتار بھی کر رہے ہیں۔ اچھا کر رہے ہیں۔

آپ کو تو شاید محاورتاً باندھا گیا، آپ سے پہلے والوں کو جرنیلوں نے باقاعدہ باندھ کر ہرایا تھا۔ بھٹو اور ان کی بیٹی سے بڑھ کر اس کی مثالیں کیا ہو سکتی ہیں۔

میاں صاحب کے ہاتھ بھی باقاعدہ نشست سے باندھے گئے تھے۔ بندوق کے نشے میں چور ایک مغرور جرنیل نے ان کے پیٹ میں چھڑی مار کر کہا تھا، چلو استعفی لکھو اب۔

میاں صاحب کو جتوانے کے لیے جرنیلوں نے بی بی کے ہاتھ پاوں باندھے، مگر خود کے ہاتھ بندھے تو میاں صاحب بنیادی مسئلے کی طرف آ گئے۔ بی بی سے ہاتھ ملایا اور کھلے ہاتھوں کھیلنے کے لیے کھیل کے کچھ ضابطے طے کر لیے۔

خان صاحب کو جتوانے کے لیے ابھی کل ہی میاں صاحب کے ہاتھ پاوں پوری شدت کے ساتھ باندھے گئے۔ اب جب خود خان صاحب کے ہاتھ بندھے ہیں تو کیا آنے والے وقتوں میں وہ عوامی طاقتوں سے ہاتھ ملا کر بنیادی مسئلے کی طرف آئیں گے؟

بنیادی مسئلہ اسی طرف ہے جس طرف منہ کرکے اب پی ٹی آئی کے کارکن دشنام ارزاں کر رہے ہیں۔ یہ مسئلہ تب تک حل نہیں ہو سکتا جب تک سیاسی کارکن مل بیٹھ کر کھیل کے کچھ ضابطے طے نہیں کرلیں گے۔

ضابطوں میں بنیادی ضابطہ یہ ہے کہ آئندہ جو بھی مقابلہ ہوگا کھلے میدان میں ہوگا اور کھلے ہاتھوں سے ہوگا۔ عوام کے کسی بھی نمائندے کو ہاتھ باندھ کر نہیں ہرایا جائے گا۔

ویب ڈیسک

Written by